پنجاب کی جامعات کے فنون و سماجی علوم کے جرائد (ریسرچ جرنلز ) کے مدیران کے لیے تربیتی ورکشاپ

ہائیر ایجوکیشن کمیشن ،پاکستان نے لاہور کے ایچ ای سی ریجنل آفس میں 13-14 جون 2019 کو پنجاب کی جامعات کے  فنون و   سماجی علوم   کے جرائد (ریسرچ جرنلز ) کے مدیران  کے لیے  تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا ۔

   تحقیق  زندگی کی درست سمت میں رہنمائی کرنے میں   خشتِ اوّل کا درجہ رکھتی  ہے۔  یہ  نہ صرف سوچ اور تخیل کی نئی کہکشاؤں کو دریافت کرتی ہے بلکہ فکر و نظر میں وسعت پیدا کرکے انسانی رویوں میں برداشت، بلند نظری اور احترام انسانیت کو فروغ دینے کا سبب بھی بنتی ہے۔اس حوالے سے  ہائیر ایجوکیشن کمیشن ، پاکستان  کے تعاون سے گزشتہ سالوں میں جامعات میں تحقیقی شعبہ میں بدرجہ اتم ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن ،پاکستان  جامعات کے فنون  وسماجی علوم کے مجلّات (جرنلز)کو بین الاقوامی رحجانات اور نظریات  کےپیشِ نظر رکھتے ہوئے فروغ دینا مقصود ہے۔ (ڈاکٹر محمد طاہر علی شاہ، ڈائریکٹر، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن ، پاکستان) 

 ہائیر ایجوکیشن کمیشن ،پاکستان نے لاہور کے علاقائی مرکز  برائے اعلی تعلیم(ایچ ای سی ریجنل آفس ) میں 13-14 جون 2019 کو پنجاب کی جامعات کے  فنون و   سماجی علوم   کے مجلات کے مدیران  کے لیے  تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ ورکشاپ میں  ایچ ای سی کے معزز مدیران  میں تحقیقی اشاعتوں سے متعلق مختلف مسائل، چیلنجز اور پالیسیوں کے بارے میں بحث کی گئی ۔کراچی سے پروفیسر ڈاکٹر امتیاز سبحانی اور لاہور سے پروفیسر ڈاکٹر اطہر عظیم  نے تربیتی وسائل کے طور پر خدمت کی تفصیلات اور مجلات کی اشاریہ سازی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ . ڈاکٹر امتیاز سبحانی نے بین الاقوامی ایجنسیوں سے استفادہ کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں سیر حاصل گفتگو کی ۔ جب  کہ ڈاکٹر اطہر  عظیم نے بین الاقوامی ایجنسیوں میں مجّلات کے مدیران  کواشاریہ سازی  (انڈیکس) کرنے کے معیار پر توجہ دینے کے مختلف قواعد و ضوابط سے آگاہی فراہم کی ، مزید برآں  تحقیق اور اشاعت میں اخلاقیات ،مقالات کے جائزہ کے طریقے کار  اور دیگر اشاعتی امور پر  بھی تفصیل سے اظہارِ خیال کیا گیا ۔پروفیسر ڈاکٹر سرمد حسین نے لاہور مرکز “تحقیقات ِلسانیات “میں جاری (جرنل انڈیکسنگ ایجنسی)پر تبادلہ خیال کیا. بالخصوص اردو، پنجابی، سندھی، پشتو سمیت مقامی زبانوں کے لیے اشاریہ سازی کو بین الاقوامی مٍعیار کے مطابق   فروغ دی جانے والی کوششوں کے ساتھ ساتھ اس کی لغت سازی سافٹ انڈیکس کرنے کے بارے میں تفصیلی  آگاہ کیا ۔

ڈاکٹر محمد طاہر علی شاہ نے سماجی علوم کے جریدوں  کے معیار  کو بڑھانے کے لیے ہائیر ایجوکیشن کمیشن ،پاکستان کے  مختلف اقدامات کے بارے میں مدیران  کو آگاہ کیا. انھوں نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن ،پاکستان کے جرائد کو  مستقبل   میں فنڈ  دینے کے بارے میں بھی بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا ۔مہمان خصوصی محترمہ ڈاکٹر نادیہ  طاہر صاحبہ (کیو  اے  اے ، ایچ ای اے پاکستان)نے کہا  کہ معیار ی تحقیق ہی ملکی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی  ہےاس لیےہم تحقیقی معیا ر کو بین الاقوامی سطح پر لانے کے لیے  ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ۔ مدیران کو مخاطب کرتے ہوئے  انھوں نے مزید کہا کہ ان شاءاللہ مستقبل میں بھی ہائیر ایجوکیشن کمیشن ،پاکستان معیاری تحقیق کےلیے  تنقیدی و تحقیقی مجّلات کی معاونت جاری رکھے گی  ۔

 جی سی ویمن یونیورسٹی ،سیالکوٹ سے ڈاکٹر محمد افضال بٹ (مدیر تحقیقی جریدہ)،ڈاکٹر حمیرا ڈار (مدیرِاعلیٰ   اوریینٹ ریسرچ جرنل آف سوشل سائنسز). ڈاکٹر  زاہد یٰسین(مدیراوریینٹ ریسرچ جرنل آف سوشل سائنسزORISS)اور ڈاکٹر محمد شہباز (مدیرLinguistic & Literary Perspectives )نے ورکشاب میں شامل ہوئے۔  ڈاکٹر محمد افضال بٹ نے مقامی زبانوں میں شائع ہونے والے مجّلات کی اشاریہ سازی ( انڈیکس) کے بارے میں اہم سوالات اٹھائے اور پروفیسر  ڈاکٹر سرمد حسین نے اان سوالات کا تسلی بخش جواب دیا۔شرکانے   ہائیر ایجوکیشن کمیشن ،پاکستان کی  تحقیقی کوششوں کی تعریف کی آخر میں  ڈاکٹر محمد افضال بٹ نے ڈائریکٹرہائیر ایجوکیشن کمیشن ،پاکستان  ڈاکٹر محمد طاہر علی شاہ کو مدیران  (ایڈیٹرز) کی حوصلہ افزائی اور معاونت کے لیے  اُن کی  خدمات کا شکریہ ادا کیا۔